نئی دہلی:3/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے سڑکوں ، پردھان منتری گرام سڑک یوجنا(پی ایم جی ایس وائی )ریورل ہاؤسنگ (دیہی مکان سازی ) ، اربن ہاؤسنگ (شہری ) مکان سازی ، ریلوے ، ہوائی اڈوں اوربندرگاہوں کی کلیدی ڈھانچہ جاتی سہولیات کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس جائزہ اجلاس میں ڈھانچہ جاتی سہولیات سے متعلق وزارتوں ، نیتی آیوگ اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔اس اجلا س میں نیتی آیوگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امیتابھ کانت نے اپنے پیش کردہ پریزینٹیشن میں بتایا کہ ملک میں سڑکوں کی تعمیر کی رفتار میں قدرے تیزی آئی ہے اور مالی سال 18-2017 میں سڑکوں کی تعمیر کی اوسط رفتار 26.93 کلومیٹر یومیہ رہی ہے جبکہ مالی سال 14-2013 میں سڑکوں کی تعمیر کی رفتار 11.67 کلومیٹر یومیہ رہی تھی ۔اس موقع پر وزیر اعظم کو ٹرانسپورٹ کے شعبے کے ڈیجیٹائزیشن میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ۔ اس سلسلے میں اب تک 24 لاکھ سے زائد آر ایف آئی ڈی ٹیگ جاری کئے جاچکے ہیں اور اب سڑکوں پر واقع ٹول پلازہ کی 22فیصد آمدنی الیکٹرانک طریقے سے ٹول فیس کی وصولیابی کے ذریعہ آتی ہے ۔سڑکوں کی صورتحال بتانے والے ان پر موجود سہولیات بتانے والے اور شکایات کے اندراج کے بار ے میں معلومات فراہم کرنے والا سکھد یاترا ایپ ایک لاکھ سے زائد افراد نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے ،جس کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ٹول ٹیکس کی وصولیابی الیکٹرانک طریقے سے کی جانے کے عمل میں مزید تیز رفتاری پیدا کی جانی چاہئے ۔واضح ہوکہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت 88 فیصد سڑکوں کی رابطہ کاری تمام مجاز کنبوں سے کردی گئی ہے اور 44 ہزارسے زائد مواضعات کی سڑک رابطہ کاری سال 2014 اور 2018 کے دوران کی جاچکی ہے جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں محض 35 ہزار مواضعات کو ہی سڑکوں سے جوڑا جاچکا تھا۔ اس سلسلے میں ، میری سڑک ایپ جاری کیا گیا ہے۔ دس زبانوں میں جاری کیا جانے و الا یہ ایپ اب تک 9.76 لاکھ لوگ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں ۔علاوہ ازیں سڑکو ں کی جی آئی ایس میپنگ کا عمل بھی جاری ہے اور اب تک 20 ریاستیں جیوپاس شئیل ریورل روڈ انفارمیشن سسٹم (جی آر آر آئی ایس )کی میز بانی کرچکی ہیں ۔ علاوہ ازیں گرین ٹکنالوجی اور پلاسٹک کے کچرے اور فلائی ایش جیسے غیر روایتی مادے شہری سڑکوں کی تعمیرمیں استعمال کیے جاچکے ہیں۔اس دوران ریلوے کے شعبے کی اہلیت سازی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔نئی ریل پٹریاں بچھائے جانے ، ریل پٹریوں کو دوہرا کئے جانے اوران کی چوڑائی میں اضافہ کئے جانے کا عمل سال 2014 سے 2018 کی مدت کے دوران 9528 کلومیٹر تھا، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے 56فیصد زائد ہے ۔اسی طرح شہری ہوابازی کے شعبے میں بھی ہوائی مسافروں کی آمد ورفت میں ان چار برسوں کے دوران یعنی سال 2014 اور 2018 کے دوران 62 فیصد سے زائد رہا ہے، جو پچھلے سال کی اسی مدت میں محض 18 فیصد تھا ۔دوسری طرف اُڑان اسکیم کے تحت ملک کے دوسرے اورتیسرے درجے کے شہروں میں 27 ہوائی اڈوں سے پروازوں کی آمدورفت جاری ہے ۔دوسری طرف بندرگاہوں کے شعبے میں سال 2014 اور 2018 کی مدت کے دوران بندرگاہوں پر آمدورفت میں 17فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے ۔اس موقع پر وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ دیہی مکان سازی یعنی ریورل ہاؤسنگ کے شعبے میں سال 2014 سے 2018 تک کی مدت کے دوران ایک کروڑ سے زائد مکانات تعمیر کئے جاچکے ہیں، جن کی تعداد پچھلے چار برس پہلے محض 25 لاکھ تھی۔مکانات کی تعمیر میں اضافے سے مکان سازی یعنی ہاؤسنگ اور اس سے وابستہ شعبوں اور صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں ۔ تاہم ایک آزاد مطالعے کے مطابق مکانات کی تعمیر کی اوسط رفتار میں کمی آئی ہے ، جو 16-2015 کے 314 ایام سے کم ہوکر 18-2017 میں محض 114 دن رہ گئی ہے ۔ دوسری طرف شہری مکان سازی (اربن ہاؤسنگ ) میں تعمیر کی نئی ٹیکنالوجیز پر زور دیا جارہا ہے اور پردھان منتری آواس یوجنا (شہری ) کے تحت اس اسکیم کے آغازسے اب تک 54 لاکھ مکانات کی منظوری دی جاچکی ہے۔